لکھنو 7؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش میں نام نہاد لوجہادکی روک تھام کے نام پر بنائے گئے تبدیلی مذہب آرڈیننس کے تحت اندھادھند کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کو اس قانون کے معرض وجود میں آنے سے قبل کی گئی ایک شادی پر بھی ایک نوجوان اوراس کے بھائی کو گرفتار کرلیاگیا۔ جرم صرف اتنا تھا کہ کئی ماہ قبل ہونے والی اس شادی کو رجسٹر کروانے کیلئے مسلم نوجوان اپنے بھائی کے ساتھ رجسٹرار کے دفتر پہنچاتھا۔
اس سلسلے میں منظر عام پر آنے والی ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتاہے کہ بجرنگ دل کے غنڈے مذکورہ جوڑے سے سوال کررہاہے کہ غیر مسلم خاتون نے شادی سے قبل اپنا مذہب تبدیل کرنے کی اجازت مجسٹریٹ سے لی تھی یا نہیں۔ واضح رہے کہ نئے قانون کے تحت یہ لازمی ہے کہ مذہب تبدیل کرنے سے قبل ضلع مجسٹریٹ کو ۶۰؍ دن پہلے نوٹس دیا جائے۔
مقامی پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او)اجے گوتم نے 2؍ بھائیوں کی گرفتاری کی تصدیق کرتےہوئے بتایاہے کہ انہیں لڑکی کے والدین کی شکایت پر حراست میں لیا گیاہے۔ دوسری طرف خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ایک بالغ شہری اور چند ماہ قبل اس نے اپنی مرضی سے مسلم نوجوان سےشادی کی تھی۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ شادی کیلئے خاتون نے اپنا مذہب تبد یل کیا ہے یا نہیں۔
شادی کیسے ہوئی؟ غیر مسلم خاتون سے شادی کرنےو الے نوجوان کی شناخت رشید کے طور پر ہوئی ہے جو مراد آباد کا رہنے والا ہے۔ دہرادون میں ملازمت کے دوران اس کی ملاقات بجنور سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے ہوئی جو وہاں زیر تعلیم تھی۔ بجرنگ دل کی شکایت ملنے پر پولیس فوری طور پر رجسٹرار کے آفس پہنچی اور اس نے رشید اوراس کے بھائی کو گرفتار کر لیا۔ ایس ایچ او کے مطابق اب اس معاملے کا فیصلہ کورٹ میں ہی ہوگا۔